ادب کے ایک شنازر محمد دلپذیر شاد مرحوم کا ادبی سفر
ادب کا ایک سورج جس نے کئی ستاروں کو روشنی دی اور اس کی اپنی روشنی آج بھی قائم ہے اور رہے گی ادب کی دنیا میں ان کا نام ادب کی خدمات کے حوالے سے یاد رہے گا آج کے دن دنیا سے رخصت ہونے والا یہ نام کسی تعارف کا محتاج نہیں جو بہت سی آنکھوں کو خون کے آنسو رلا گیا 9ذوالحجہ 1938ہجری بروز بدھ 23 ستمبر 2015 کو اس دنیا فانی سے کوچ کرنے والاجو بچپن میں اتھرا اور ضدی مانا جاتا تھا مگرجس نے نوجوانی ہی سے ادب کی انگلی ایسی پکڑی کہ لاکھ آندھی وطوفان ہو ادب کے دامن میں لپٹا رہا زندگی میں کئی جگہ نشیب وفراز آئے مگر وہ پتھر کے سب راستوں کو جانفشانی سے عبور کرتا گیا اور اپنے نام کے انمٹ نقوش ان پتھروں ان راستوں ان وادیوں ان کہساروں ان پہاڑوں ان جنگلوں اور گاوں و شہروں میں میں چھوڑ گیا جہاں درد کی وادیاں بھی ہیں جہاں خوشیوں کی مہکتی بہاریں بھی ہیں جہاں اپنوں کا ساتھ بھی اگر ہے تو سیاست کی دنیا میں پلتے ہوئے ناسور بھی ہیں جہاں حسین وادیوں میں زندگی دامن گیر ہے وہاں راستے میں کانٹوں سے بھری باڑیں بھی ہیں 1960 میں ہندکو زبان سے شاعری کی باقاعدہ ابتدا کرنے والا چھ دہائیوں تک اپنی شا...