نعت رسول مقبولؐ

 میرے جذبات کو جانے کیا ہو گیا

لب پہ میرے جو تھا وہ صدا ہو گیا


جب سے گلیوں میں ان کی ہوا ہے گزر

کاسئہ جاں بھی ان پر فدا ہو گیا


میری نظریں جو آقا کے در پر پڑیں 

اشک آنکھوں میں حرف دعا ہو گیا


مجھ کو سرکار کا اذن جونہی ملا 

روح اڑ کے گئی دل جدا ہو گیا


نور سا میرے سینے میں بستا چلا

ان کی نظر کرم تھی عطا ہو گیا


وہ تھا شانِ سخا میں خطا وہ ادا

مجھ پہ جودو سخا بس سخا ہو گیا


جامہِ عشق میں خیری شالا رہے 

ان کی جانب سے عہد وفا ہو گیا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ادب کے ایک شنازر محمد دلپذیر شاد مرحوم کا ادبی سفر

قلعہ پھروالہ